Asia Cup 2023
Najam Sethi hits back at Asian Cricket Council
پاکستان کی بائیکاٹ کی دھمکی بھارت کو بیک فٹ پر
لے آئی،بھارت نے ایشیاکپ کے
’’ہائبرڈ ماڈل‘‘ پر آمادگی ظاہر کردی ۔
بلیو شرٹس اپنے میچز کسی اور ملک میں
کھیلے گی جبکہ دیگر ٹیمیں پاک سرزمین پر
اپنے میچز کھیلیں گی۔
ذرائع کے مطابق دبئی میں آئی سی سی میٹنگ کے اطراف میں ہونے والی ملاقات میں ایشین کرکٹ کونسل کے ممبران نے معاملے پر تبادلہ خیال کیا، پاکستان سے کہا گیا کہ میزبانی سے دستبردار ہو کر اسے سری لنکا یا بنگلہ دیش سے تبدیل کرلے،2 سال بعد شاید پاک بھارت تعلقات بہتر ہوچکے ہوں تب اپنے ملک میں ایشیاکپ کا انعقاد کرلے،البتہ پی سی بی حکام نے سختی سے یہ تجویز مسترد کرتے ہوئے یہ دھمکی دے دی کہ اگر ایسا کرنا ہے تو ہمارے بغیر ہی ایونٹ کا انعقاد کروالیں۔
جس پر جواب دیا گیا کہ سوچ لیں اس سے آپ کو 3 ملین ڈالرز کا تو فوری نقصان ہوجائے گا مگر پاکستان نہ مانا اور کہا کہ ہمیں پیسے نہیں اپنے شائقین کے جذبات کا خیال رکھنا ہے۔ ہم بھارت کی مجبوری سمجھتے ہیں مگر اس مسئلے کو اب حل ہوجانا چاہیے کیونکہ آگے ورلڈکپ اور چیمپئنز ٹرافی جیسے ایونٹس بھی ہونے ہیں، حکام نے تجویز دی کہ ہم صرف بھارتی ٹیم کے میچز ہی کسی دوسرے ملک منتقل کر دیتے ہیں۔
میٹنگ میں پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ اگر کسی اور ملک کو بھی ہمارے ملک ٹیم بھیجنے پر اعتراض ہے تو اپنی حکومت کا خط پیش کرے لیکن بھارت کے سوا کسی نے بھی تشویش ظاہر نہ کی، بی سی سی آئی نے یو اے ای میں کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں موسم گرم ہوگا، گو کہ اماراتی حکام نے انھیں بتایا کہ مصنوعی بارش وغیرہ کے ذریعے اب موسمی سختیوں پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے، مگر بھارت نے سری لنکا کا نام پیش کردیا جبکہ پاکستان نے عمان کا بھی آپشن دیا ہے۔انگلینڈ گو کہ کافی دور ہے مگر وہاں بھی میچز ہوسکتے ہیں، اس ضمن میں بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اورآئندہ 4،5 روز میں حتمی شیڈول جاری کردیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق دبئی میں آئی سی سی میٹنگ کے اطراف میں ہونے والی ملاقات میں ایشین کرکٹ کونسل کے ممبران نے معاملے پر تبادلہ خیال کیا، پاکستان سے کہا گیا کہ میزبانی سے دستبردار ہو کر اسے سری لنکا یا بنگلہ دیش سے تبدیل کرلے،2 سال بعد شاید پاک بھارت تعلقات بہتر ہوچکے ہوں تب اپنے ملک میں ایشیاکپ کا انعقاد کرلے،البتہ پی سی بی حکام نے سختی سے یہ تجویز مسترد کرتے ہوئے یہ دھمکی دے دی کہ اگر ایسا کرنا ہے تو ہمارے بغیر ہی ایونٹ کا انعقاد کروالیں۔
جس پر جواب دیا گیا کہ سوچ لیں اس سے آپ کو 3 ملین ڈالرز کا تو فوری نقصان ہوجائے گا مگر پاکستان نہ مانا اور کہا کہ ہمیں پیسے نہیں اپنے شائقین کے جذبات کا خیال رکھنا ہے۔ ہم بھارت کی مجبوری سمجھتے ہیں مگر اس مسئلے کو اب حل ہوجانا چاہیے کیونکہ آگے ورلڈکپ اور چیمپئنز ٹرافی جیسے ایونٹس بھی ہونے ہیں، حکام نے تجویز دی کہ ہم صرف بھارتی ٹیم کے میچز ہی کسی دوسرے ملک منتقل کر دیتے ہیں۔
میٹنگ میں پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ اگر کسی اور ملک کو بھی ہمارے ملک ٹیم بھیجنے پر اعتراض ہے تو اپنی حکومت کا خط پیش کرے لیکن بھارت کے سوا کسی نے بھی تشویش ظاہر نہ کی، بی سی سی آئی نے یو اے ای میں کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں موسم گرم ہوگا، گو کہ اماراتی حکام نے انھیں بتایا کہ مصنوعی بارش وغیرہ کے ذریعے اب موسمی سختیوں پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے، مگر بھارت نے سری لنکا کا نام پیش کردیا جبکہ پاکستان نے عمان کا بھی آپشن دیا ہے۔انگلینڈ گو کہ کافی دور ہے مگر وہاں بھی میچز ہوسکتے ہیں، اس ضمن میں بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اورآئندہ 4،5 روز میں حتمی شیڈول جاری کردیا جائے گا۔
Comments
Post a Comment